مداخلت قابل قبول نہیں، خط کا جواب سفارتی آداب کو مدنظر رکھ کر دیا جائے گا: قومی سلامتی کمیٹی

قومی سلامتی کمیٹی نے غیر ملکی اہلکار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان کو غیر سفارتی قرار دے دیا۔

 

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔۔۔ جس میں دفاع، توانائی، اطلاعات، داخلہ خزانہ، انسانی حقوق، منصوبہ بندی وترقی کے وفاقی وزرا نے شرکت کی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان، مشیرقومی سلامتی، انٹیلی جنس ایجنسیز کے سربراہان اور دیگر اعلی حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کوغیرملکی آفیشل کی پاکستانی سفیر سے ہونے والی باضابطہ بات چیت پربریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نےغیرملکی سفارت کارکی جانب سے استعمال کی گئی زبان پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے غیرسفارتی قراردیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت ناقابل برداشت ہے۔ متعلقہ ملک کوسفارتی آداب کومدنظررکھتے ہوئے باضابطہ جواب دیاجائےگا۔ اعلامیہ کے مطابق غیرملکی مراسلہ پاکستان کے اندورنی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے اورپاکستان کے اندورنی معاملات میں مداخلت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ملک کو اسلام آباد اور اس کے دارالحکومت میں سخت احتجاجی مراسلہ دیا جائے گا جبکہ سخت مراسلہ باضابطہ چینل کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے خصوصی کابینہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کی ان کیمرہ بریفنگ کے ذریعے پارلیمنٹ کواعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

About admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے